کل دفتر سے وقت پہ آ گیا تھا. تھوڑی دیر میں وقاص بھی آ پہنچا. ادھر ادھر کی باتوں کے بعد وہی روز کا سوال: آج کیا پکائیں؟
میں: گھر میں کیا کچھ ہے ؟
میں (ہاں دوبارہ ): چنے ہیں. سبزی ہے. چاول ہیں.
وقاص: آج مرغی بناتے ہیں.
میں: لانی پڑے گی.
وقاص: چل نا یار.لے آتے ہیں.
میں؛ اچھا !چل.
دل بالکل نہی چاہ رہا تھا مگر …
قریب میں ہی حلال گوشت کی دکان ہے. شکر ہے قریب ہی ہے. دکان پہ تین قسم کی مرغی دستیاب تھی. ہم نے ایک قسم منتخب کی، ٢ بنانے کو کہا اور انتظار کرنے لگے. ہم انتظار کر ہی رہے تھے کہ نظر قیمہ پہ پڑی.
میں: قیمہ لے لیں؟
وقاص: لے لے.
میں: یار دھونے کا بڑا مسلہ ہوتا ہے، پر چل لے لیتے ہیں.
میں (دوبارہ ): آج قیمے والے چاول نا بنائیں.
وقاص: اچھی تجویز ہے.
.جب گھر پہنچے تو ہم فیصلہ کر چکے تھے. قیمہ چاول.
گھر پہنچے، وقاص مرغی دھونے لگا اور میں
دیکھنے لگا. وقاص مرغی دھو کے ہٹا تو میں اٹھا اور قیمہ دھونے لگا. وقاص دھلی مرغی فریزر میں رکھنے لگا TV.
قیمہ دھونا میں نے شروع تو کر دیا، مگر اسے ختم کیسے کرنا تھا یہ مجھے سمجھ نہی آ رہا تھا. جی ہاں ہمارے پاس چھاننی نہی تھی. سو ہاتھ سے دھونا شروع کیا. اب پانی نکالنے لگتا تو قیمہ بھی پانی کے ساتھ باہر. قیمہ روکوں تو پانی بھی رک جاۓ. اب کریں تو کیا کریں. خیر کوشش جاری رکھی اور مٹھیوں میں قیمہ بھر کے، اس کا پانی نچوڑ کے، اور پلیٹ میں رکھنا شروع کیا. اب تھوڑا بہت قیمہ ہوتا تو شاید دھل بھی جاتا، مگر ١ کلو قیمہ ایسے کیسے دھلے.
کافی سوچ بچار کے بعد یہی ٹھہری کہ اگر قیمہ دھونا ہے تو دکان پہ جایا جاۓ اور چھاننی لای جاے. کوئی ٨ بجے کا عمل تھا، پتا نہی کوئی دکان کھلی ہو گی کہ نہی. یہاں ٦ بجے کے بعد کوئی چیز لینی ہو تو کافی مسلہ ہوتا ہے. Tesco کھلا ہو گا، مگر تھوڑا دور ہے گھر سے.قریب میں 99p سٹور ہے. جی ہاں ہر مال 99p
میرا خیال تھا کے ٩ بجے تک کھلا ہوتا ہے. سو .. چل پڑے چھاننی لینے. اب جو 99p پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں، سٹور بند ہو چکا تھا. ٩ کی بجاۓ ٨ بجے بند ہوتا ہے.
وقاص بولا، قریب میں ایک اور سٹور ہے، وہ شاید کھلا ہو. وہاں بھی جا دیکھا اور اسے بھی بند پایا. اب کیا کریں. تھوڑا دور پاکستانی بھایوں کی دکانیں ہیں، وہ ذرا دیر تک کھلی ہوتی ہیں. سو ، کوسنے دیتے ہوئے اس وقت کو جب ہم نے قیمہ خریدا اور قیمہ چاول بنانے کا سوچا، چل پڑے اس بازار کی طرف.
بازار میں تھوڑا ہی آگے گئے تو ایک رسوی کے سامان والی دکان کھلی نظر آی. شکر کا کلمہ پڑھا اور گھس گئے. ایک خان صاحب سے ملاقات ہوئی. عرض مدعا پہ صاحب نے فرمایا کہ اب تو دکان بند کر رہے ہیں، اور آپ کی مطلوبہ، تھوڑی آگے پڑی ہے اور وہاں تک کے راستے میں سامان رکھ دیا ہے، لہذا پہنچ سے باہر ہے. اب چھا ننی ہمیں دکھ تو رہی تھی، مگر ہم اسے چھو تک نہی سکتے تھے. خان صاحب نے ایک مہربانی یہ کی کہ ایک اور دکان کا پتا بتا دیا، کہ کھلی ہو گی اور وہاں سے چھا ننی مل بھی جاۓ گی. ہم خان صاحب کو صلواتیں سناتے ، اور ایک بار پھر خود کو کوسنے دیتے، آگے کو چل پڑے.
جاتے ہوے دایں ہاتھ پہ ایک سردار جی کی دکان پڑتی ہے. ہم کھانے پکانے کا دیسی سامان وہیں سے لیتے ہیں. کافی بڑی دکان ہے. سوچا دیکھتے چلیں، شاید کہ گوہر مقصود ہاتھ آ جاۓ. دکان میں جا کہ جو نظر دوڑای تومایوسی ہوئی. سوچا دکان والوں سے پوچھتے چلیں.
کچھ خواتین مقام ادایگی پہ موجود تھیں. ہم نے ایک کو مخاطب کیا اور عرض کیا کہ ایک عدد چھاننی کی ضرورت ہے اگر آپ کے پاس ہو تو عطا فرماے تا کہ گھر جا کہ قیمہ دھویں اور قیمہ چاول بنایں. ان خاتون کو ہماری بات کی کچھ سمجھ نہی آی، تو وضاحت کی خاطر وقاص بولا، جی جیسے چاۓ کی پونی ہوتی ہے، ویسی چاہیے مگر قیمہ دھونے کے لیے. خاتون نے پہلے تو ہماری اس معصومانہ مثال سے لطف لیا
اور پھر پیچھے مڑ کے ایک اور خاتون سے اس بابت دریافت کیا. وہ کافی بھلی مانس تھیں، جب ان کے سمجھانے کے باوجود ہمیں سمجھ نہی آیا کہ دکان کے کس حصے میں دیکھنا ہے، تو خود ساتھ ہو لیں. برتنوں والے حصے میں آ کے دیکھنا شروع کیا مگر کچھ ملا نہی. تھوڑی دیر میں خاتون کی آواز سنائی دی، الله، وہ تو ختم ہو گیں ہیں. اسی لمحے وقاص کی نظر ایک ڈبے پہ پڑی جس پہ انگریزی زبان میں چھاننی لکھا تھا. جس پہ ان خاتون نے بتایا یہ تو آٹے والی ہے. ہم نے قیمت پوچھی تو ٧.٩٩ پونڈ . ایک چھاننی کے لیے اتنے پیسے، ہمارے حساب سے تھوڑے زیادہ تھے، سو ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور دکان سے باہر نکل آے. اگر تھوڑے کم پیسوں کی ہوتی، تو شاید ہم آٹے والی
چھاننی ہی لے کے اس سے قیمہ دھو لیتے، اس وقت حالت ہی ایسی ہو رہی تھی.
تھوڑی دیر مزید چلنے کے بعد ہم خان صاحب کے بتائی ہوئی دکان پہ پہنچے اور یہ جان کر خوشی ہوئی کہ نا صرف دکان کھلی ہے بلکہ چھاننی بھی دستیاب ہے. خان صاحب کو دعایں دیتے، چھاننی خریدتے ہم گھر کو لوٹے.
اس بار قیمہ دھونا کوئی اتنا بڑا مسلہ ثابت نہی ہوا.
قیمہ دھویا، چاول بھگوے، مسالہ بنایا، قیمہ ڈالا، بھونا، چاول ڈالے، اور تھوڑی دیر میں چاول تیار. لیکن جیسا کہ عموما ایسی روایات کا نتیجہ ہوتا ہے، کہ چاول اتنے مزے کے بنے کہ نہ پوچھیں، تو ایسا کچھ نہی ہوا. چاول بس ٹھیک ہی بن گئے.
ہم نے دہی کے ساتھ تناول فرماے اور الله کا شکر ادا کیا.
میں: گھر میں کیا کچھ ہے ؟
میں (ہاں دوبارہ ): چنے ہیں. سبزی ہے. چاول ہیں.
وقاص: آج مرغی بناتے ہیں.
میں: لانی پڑے گی.
وقاص: چل نا یار.لے آتے ہیں.
میں؛ اچھا !چل.
دل بالکل نہی چاہ رہا تھا مگر …قریب میں ہی حلال گوشت کی دکان ہے. شکر ہے قریب ہی ہے. دکان پہ تین قسم کی مرغی دستیاب تھی. ہم نے ایک قسم منتخب کی، ٢ بنانے کو کہا اور انتظار کرنے لگے. ہم انتظار کر ہی رہے تھے کہ نظر قیمہ پہ پڑی.
میں: قیمہ لے لیں؟
وقاص: لے لے.
میں: یار دھونے کا بڑا مسلہ ہوتا ہے، پر چل لے لیتے ہیں.
میں (دوبارہ ): آج قیمے والے چاول نا بنائیں.
وقاص: اچھی تجویز ہے.جب گھر پوھنچے تو ہم فیصلہ کر چکے تھے. قیمہ چاول.
وقاص


